The Art of poetry, Urdu and Aliphbay.com

Posts Tagged ‘writings

When it gets tense

Posted by: moeen on: September 27, 2007

Life was good when i was carefree. Now it has become a job to live the life. Time is passing by and i m dragging along. Its very difficult (difficult enough to say i m not doing this) to give what you want for others want. Jo loog dosroo k lye jeetay han, un ko [...]


Blog Stats

  • 13,027 hits

Top Rated

RSS Nuqta

  • میرے چارہ گر
    میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر میرے چارہ گر تو میرے سفر کا شریک ہے نہیں ہم سفر میرے چارہ گر تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اسے ناپتے اسے کاٹتے میرا سارا وقت نکل گیا نہیں جس پہ کوئی نشان پا میرے سامنے ہے وہ راہ گزر یہ جو ریگ دشتِ فراق [...] […]
  • حسن کُوزہ گر
    حسن کوزہ گر جہاں زاد! نیچے گلی میں تیرے در کے آگے یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر میں نے دیکھا تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ وار پھرتا رہا ہوں جہاں زاد! نوسال پھرتا رہا ہوں یہ وہ دور تھا جس [...] […]
  • سورج تنہا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک بستی تھی دل والوں کی جہاں چاند اور سورج رہتے تھے سارادن وہ آنگن میں ہنسا کھیلا کرتے تھے پھر اک دن وہ آپس میں روٹھ گئے سب رشتے ناتے ٹوٹ گئے اب چاند وہاں تب آتا ہے جب سورج چھپ جاتا ہے اور سورج تب نکلتا ہے جب چاند کہیں کھوجاتا ہے دیکھنے والے کہتے ہیں کہ سورج الجھا رہتا ہے چاند کے پاس تو [...] […]
  • غزل۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر کی شاعری
    یہ کام اب کے انوکھا کیا ہواؤں نے مرے چراغ کو سجدہ کیا ہواؤں نے درخت جڑ سے اکھڑتا تو کوئی بات نہ تھی مگر جھکا کے تو رسوا کیا ہواؤں نے گھروندے بھول گئے بارشوں کی بوچھاڑیں وہ حشر بعد میں برپا کیا ہواؤں نے گلوں سے پہلے تو موسم نے چھین لی خوشبو پھر اس کا شہر میں چرچا کیا [...] […]
  • غزل
    ہمیں جو دل نے دیے مشورے غلط نکلے ہماری زیست کے سب فیصلے غلط نکلے کتاب زیست میں اتنی بھی مشکلات نہ تھیں تیرے سجائے ہوئے حاشیے غلط نکلے ہمیں نجوم رمل کے علوم آتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ مگر یہ عشق ہے سب زائچے غلط نکلے مثال دینے سے قاصر رہا زمانہ سخن تیرے جمال کے سب زاویے غلط نکلے جنھیں نبھاتے ہوئے [...] […]
  • نقش جب بگڑ جائے
    زندگی کے چہرے کا نقش جب بگڑ جائے دوستوں کی آنکھوں میں دشمنی ابھر آئے کانچ کی سنہری بات زیرلب بکھر جائے لفظ بے یقینی کےجنگلوں میں گھر جائیں سخت بے ثباتی ہو بات بات ذاتی ہو اس طرح کے موسم میں آئینہ ضروری ہے […]
  • مجھے گہری بات بتا گیا۔۔۔۔
    بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری [...] […]