The Art of poetry, Urdu and Aliphbay.com

Archive for the ‘on job’ Category

Asp mail issue, IIS, webserver

Posted by: moeen on: May 19, 2008

The problem:
The mail server is being used which is on the linux webserver. The sendmail file is on the webserver using iis, and the mail object is created on this server. When I send mail, gmail accept, yahoo make it spam, and hotmail never reached.
The error code is error ‘8004020f’.


Blog Stats

  • 12,767 hits

RSS Nuqta

  • حسن کُوزہ گر
    حسن کوزہ گر جہاں زاد! نیچے گلی میں تیرے در کے آگے یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر میں نے دیکھا تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ وار پھرتا رہا ہوں جہاں زاد! نوسال پھرتا رہا ہوں یہ وہ دور تھا جس [...] […]
  • سورج تنہا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک بستی تھی دل والوں کی جہاں چاند اور سورج رہتے تھے سارادن وہ آنگن میں ہنسا کھیلا کرتے تھے پھر اک دن وہ آپس میں روٹھ گئے سب رشتے ناتے ٹوٹ گئے اب چاند وہاں تب آتا ہے جب سورج چھپ جاتا ہے اور سورج تب نکلتا ہے جب چاند کہیں کھوجاتا ہے دیکھنے والے کہتے ہیں کہ سورج الجھا رہتا ہے چاند کے پاس تو [...] […]
  • غزل۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر کی شاعری
    یہ کام اب کے انوکھا کیا ہواؤں نے مرے چراغ کو سجدہ کیا ہواؤں نے درخت جڑ سے اکھڑتا تو کوئی بات نہ تھی مگر جھکا کے تو رسوا کیا ہواؤں نے گھروندے بھول گئے بارشوں کی بوچھاڑیں وہ حشر بعد میں برپا کیا ہواؤں نے گلوں سے پہلے تو موسم نے چھین لی خوشبو پھر اس کا شہر میں چرچا کیا [...] […]
  • غزل
    ہمیں جو دل نے دیے مشورے غلط نکلے ہماری زیست کے سب فیصلے غلط نکلے کتاب زیست میں اتنی بھی مشکلات نہ تھیں تیرے سجائے ہوئے حاشیے غلط نکلے ہمیں نجوم رمل کے علوم آتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ مگر یہ عشق ہے سب زائچے غلط نکلے مثال دینے سے قاصر رہا زمانہ سخن تیرے جمال کے سب زاویے غلط نکلے جنھیں نبھاتے ہوئے [...] […]
  • نقش جب بگڑ جائے
    زندگی کے چہرے کا نقش جب بگڑ جائے دوستوں کی آنکھوں میں دشمنی ابھر آئے کانچ کی سنہری بات زیرلب بکھر جائے لفظ بے یقینی کےجنگلوں میں گھر جائیں سخت بے ثباتی ہو بات بات ذاتی ہو اس طرح کے موسم میں آئینہ ضروری ہے […]
  • مجھے گہری بات بتا گیا۔۔۔۔
    بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری [...] […]
  • اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
    کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ ہی سہتا ہوگا اب بھی بھیگی بارش میں وہ بن چھتری کے چلتا ہوگا مجھ  سے بچھڑے عرصہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہوگا اپنے دل کی ساری باتیں خود سے خود ہی کہتا ہوگا […]