The Art of poetry, Urdu and Aliphbay.com

A new nazm by moeen

Posted by: moeen on: July 18, 2008

asiay he..
guzartay howe..
tehar gaya..
kia khayal hai?
kidr jana hai…?
kuch lag rha hai..
k kuch dekha dekha sa hai
ye rahi hum manzil tu nhi..
emmm…
nhi… tu phir chalo moeen…
loat chalian
ghar ko apnay…
bohut sham hoi
maa’ ki ankhien rasta…
tak rhi hon ge…
chalo g

2 جوابات to "A new nazm by moeen"

Tooti hui mundair pe nanha sa ik diya……
Mausam sey keh raha hai aandhi chala k daikh
good poetry but if its your own then you need to seek knowledge on urdu poetry.

Thanks for the appreciatation… and i believe that it was an unedited version of the amaad, which wrote on line.. i mean the amaad direct online.
and more now, i believe, that being poet gives me a medium to express myself, so i dont care, the rabt, n stuff. Majorly i m inspired from Ghalib n Iqbal, coz they are the visionaries… the global thinker, having meaningful targets, and i do agree, that i actually can not competite to an actually poet who has love for urdu. i do poetry coz its my mother tonuge and my way of expression.

I will try to work on my urdu as well. if had time. Thanks.

Leave a Reply

Blog Stats

  • 11,757 hits

RSS Nuqta

  • غزل۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر کی شاعری
    یہ کام اب کے انوکھا کیا ہواؤں نے مرے چراغ کو سجدہ کیا ہواؤں نے درخت جڑ سے اکھڑتا تو کوئی بات نہ تھی مگر جھکا کے تو رسوا کیا ہواؤں نے گھروندے بھول گئے بارشوں کی بوچھاڑیں وہ حشر بعد میں برپا کیا ہواؤں نے گلوں سے پہلے تو موسم نے چھین لی خوشبو پھر اس کا شہر میں چرچا کیا [...] […]
  • غزل
    ہمیں جو دل نے دیے مشورے غلط نکلے ہماری زیست کے سب فیصلے غلط نکلے کتاب زیست میں اتنی بھی مشکلات نہ تھیں تیرے سجائے ہوئے حاشیے غلط نکلے ہمیں نجوم رمل کے علوم آتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ مگر یہ عشق ہے سب زائچے غلط نکلے مثال دینے سے قاصر رہا زمانہ سخن تیرے جمال کے سب زاویے غلط نکلے جنھیں نبھاتے ہوئے [...] […]
  • نقش جب بگڑ جائے
    زندگی کے چہرے کا نقش جب بگڑ جائے دوستوں کی آنکھوں میں دشمنی ابھر آئے کانچ کی سنہری بات زیرلب بکھر جائے لفظ بے یقینی کےجنگلوں میں گھر جائیں سخت بے ثباتی ہو بات بات ذاتی ہو اس طرح کے موسم میں آئینہ ضروری ہے […]
  • مجھے گہری بات بتا گیا۔۔۔۔
    بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری [...] […]
  • اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
    کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ ہی سہتا ہوگا اب بھی بھیگی بارش میں وہ بن چھتری کے چلتا ہوگا مجھ  سے بچھڑے عرصہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہوگا اپنے دل کی ساری باتیں خود سے خود ہی کہتا ہوگا […]
  • اداس مت رہا کرو
    جلتے دیے کے سامنے جھونکا ہوا کا دیکھ کر اتم کیوں اداس ہوگئے موسم خزاں کا دیکھ کر تم دلوں کے روگ کا موسموں کے سوز کا درد مت سہا کرو اداس مت رہا کرو
  • دیواریں روتی رہتی ہیں۔۔۔۔
    بدلتی رتوں سے گھبرا کر آنسوؤں سے تنگ آکر اک روز میں اپنے سارے خواب اپنے کمرے کی دیواروں سے کہہ ڈالے اور اب میں سوتا رہتا ہوں دیواریں روتی رہتی ہیں