The Art of poetry, Urdu and Aliphbay.com

Allah ka shukar hai

Posted by: moeen on: July 16, 2008

Allah ka shukar hai..

k os nay muj ko itni naemtay de han

jin ka mein shoomar nhi kr sakta.

Allah ka shukar hai..

Leave a Reply

Blog Stats

  • 11,757 hits

RSS Nuqta

  • غزل۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر کی شاعری
    یہ کام اب کے انوکھا کیا ہواؤں نے مرے چراغ کو سجدہ کیا ہواؤں نے درخت جڑ سے اکھڑتا تو کوئی بات نہ تھی مگر جھکا کے تو رسوا کیا ہواؤں نے گھروندے بھول گئے بارشوں کی بوچھاڑیں وہ حشر بعد میں برپا کیا ہواؤں نے گلوں سے پہلے تو موسم نے چھین لی خوشبو پھر اس کا شہر میں چرچا کیا [...] […]
  • غزل
    ہمیں جو دل نے دیے مشورے غلط نکلے ہماری زیست کے سب فیصلے غلط نکلے کتاب زیست میں اتنی بھی مشکلات نہ تھیں تیرے سجائے ہوئے حاشیے غلط نکلے ہمیں نجوم رمل کے علوم آتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ مگر یہ عشق ہے سب زائچے غلط نکلے مثال دینے سے قاصر رہا زمانہ سخن تیرے جمال کے سب زاویے غلط نکلے جنھیں نبھاتے ہوئے [...] […]
  • نقش جب بگڑ جائے
    زندگی کے چہرے کا نقش جب بگڑ جائے دوستوں کی آنکھوں میں دشمنی ابھر آئے کانچ کی سنہری بات زیرلب بکھر جائے لفظ بے یقینی کےجنگلوں میں گھر جائیں سخت بے ثباتی ہو بات بات ذاتی ہو اس طرح کے موسم میں آئینہ ضروری ہے […]
  • مجھے گہری بات بتا گیا۔۔۔۔
    بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری [...] […]
  • اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
    کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ ہی سہتا ہوگا اب بھی بھیگی بارش میں وہ بن چھتری کے چلتا ہوگا مجھ  سے بچھڑے عرصہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہوگا اپنے دل کی ساری باتیں خود سے خود ہی کہتا ہوگا […]
  • اداس مت رہا کرو
    جلتے دیے کے سامنے جھونکا ہوا کا دیکھ کر اتم کیوں اداس ہوگئے موسم خزاں کا دیکھ کر تم دلوں کے روگ کا موسموں کے سوز کا درد مت سہا کرو اداس مت رہا کرو
  • دیواریں روتی رہتی ہیں۔۔۔۔
    بدلتی رتوں سے گھبرا کر آنسوؤں سے تنگ آکر اک روز میں اپنے سارے خواب اپنے کمرے کی دیواروں سے کہہ ڈالے اور اب میں سوتا رہتا ہوں دیواریں روتی رہتی ہیں