The Art of poetry, Urdu and Aliphbay.com

You and I (a unique way of looking…)

Posted by: moeen on: June 4, 2008

Imagine, I m standing before you and you are thinking about me, and i m guessing from my observation (Deducing from your expression, facial, stress, body language etc), i m in your mind (intuitively hearing your thoughts) [ This implies that i can read your 'Shaoor' ].  After so much knowledge Can i improve my self one thing? Can i overpower you…………………………………………

……………………………………………………………………………………………………………………………………………

More conditions must be imposed to be a tautology.

…………………………………………………………………………………………………………………………………………….

Getting knowledge about something  does not make person benficial, until he knows / realize that what he knows, meant what. In this phenomenun, ‘reading between the lines’ and ‘implications’ does not work and give a glimpse of false tautology. The actual knowledge really makes you responsible (extremely boarder even than the cure of cancer for humanity).

If you need more ‘injections’. Just Ask.  :)

Leave a Reply

Blog Stats

  • 11,757 hits

RSS Nuqta

  • غزل۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر کی شاعری
    یہ کام اب کے انوکھا کیا ہواؤں نے مرے چراغ کو سجدہ کیا ہواؤں نے درخت جڑ سے اکھڑتا تو کوئی بات نہ تھی مگر جھکا کے تو رسوا کیا ہواؤں نے گھروندے بھول گئے بارشوں کی بوچھاڑیں وہ حشر بعد میں برپا کیا ہواؤں نے گلوں سے پہلے تو موسم نے چھین لی خوشبو پھر اس کا شہر میں چرچا کیا [...] […]
  • غزل
    ہمیں جو دل نے دیے مشورے غلط نکلے ہماری زیست کے سب فیصلے غلط نکلے کتاب زیست میں اتنی بھی مشکلات نہ تھیں تیرے سجائے ہوئے حاشیے غلط نکلے ہمیں نجوم رمل کے علوم آتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ مگر یہ عشق ہے سب زائچے غلط نکلے مثال دینے سے قاصر رہا زمانہ سخن تیرے جمال کے سب زاویے غلط نکلے جنھیں نبھاتے ہوئے [...] […]
  • نقش جب بگڑ جائے
    زندگی کے چہرے کا نقش جب بگڑ جائے دوستوں کی آنکھوں میں دشمنی ابھر آئے کانچ کی سنہری بات زیرلب بکھر جائے لفظ بے یقینی کےجنگلوں میں گھر جائیں سخت بے ثباتی ہو بات بات ذاتی ہو اس طرح کے موسم میں آئینہ ضروری ہے […]
  • مجھے گہری بات بتا گیا۔۔۔۔
    بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری [...] […]
  • اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
    کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ ہی سہتا ہوگا اب بھی بھیگی بارش میں وہ بن چھتری کے چلتا ہوگا مجھ  سے بچھڑے عرصہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہوگا اپنے دل کی ساری باتیں خود سے خود ہی کہتا ہوگا […]
  • اداس مت رہا کرو
    جلتے دیے کے سامنے جھونکا ہوا کا دیکھ کر اتم کیوں اداس ہوگئے موسم خزاں کا دیکھ کر تم دلوں کے روگ کا موسموں کے سوز کا درد مت سہا کرو اداس مت رہا کرو
  • دیواریں روتی رہتی ہیں۔۔۔۔
    بدلتی رتوں سے گھبرا کر آنسوؤں سے تنگ آکر اک روز میں اپنے سارے خواب اپنے کمرے کی دیواروں سے کہہ ڈالے اور اب میں سوتا رہتا ہوں دیواریں روتی رہتی ہیں