The Art of poetry, Urdu and Aliphbay.com

Roogi ya Joogi

Posted by: moeen on: May 24, 2008

One of my famous self hunting adventure happened in Peshawar. I used to leave my shave and let the hairs grow, where they have potential :) , Ya weird.

It was in the winter, ah Good old days, when i went my friend to a near by shop. The Shop keeper took me some wag abound, or shop lifter… The reaction was astionshing for me as i was ‘gum’ in my joog, while others who dont know me, where thinking i m actually joogi… the street jogi..

Actually, I was … but not the common one…

Khair, I learned alot about myself, my emotions, and my inner self. Great Learning.

I have Quit doing this kind of Experimentation, as I know there are some normal thing more interesting than what i have been doing lately. and doing it the way i think (i mean, unconventional).

How about you people, you did some experimentation.

Tags: ,

Leave a Reply

Blog Stats

  • 11,757 hits

RSS Nuqta

  • غزل۔۔۔۔ مرغوب حسین طاہر کی شاعری
    یہ کام اب کے انوکھا کیا ہواؤں نے مرے چراغ کو سجدہ کیا ہواؤں نے درخت جڑ سے اکھڑتا تو کوئی بات نہ تھی مگر جھکا کے تو رسوا کیا ہواؤں نے گھروندے بھول گئے بارشوں کی بوچھاڑیں وہ حشر بعد میں برپا کیا ہواؤں نے گلوں سے پہلے تو موسم نے چھین لی خوشبو پھر اس کا شہر میں چرچا کیا [...] […]
  • غزل
    ہمیں جو دل نے دیے مشورے غلط نکلے ہماری زیست کے سب فیصلے غلط نکلے کتاب زیست میں اتنی بھی مشکلات نہ تھیں تیرے سجائے ہوئے حاشیے غلط نکلے ہمیں نجوم رمل کے علوم آتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ مگر یہ عشق ہے سب زائچے غلط نکلے مثال دینے سے قاصر رہا زمانہ سخن تیرے جمال کے سب زاویے غلط نکلے جنھیں نبھاتے ہوئے [...] […]
  • نقش جب بگڑ جائے
    زندگی کے چہرے کا نقش جب بگڑ جائے دوستوں کی آنکھوں میں دشمنی ابھر آئے کانچ کی سنہری بات زیرلب بکھر جائے لفظ بے یقینی کےجنگلوں میں گھر جائیں سخت بے ثباتی ہو بات بات ذاتی ہو اس طرح کے موسم میں آئینہ ضروری ہے […]
  • مجھے گہری بات بتا گیا۔۔۔۔
    بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری [...] […]
  • اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
    کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ ہی سہتا ہوگا اب بھی بھیگی بارش میں وہ بن چھتری کے چلتا ہوگا مجھ  سے بچھڑے عرصہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہوگا اپنے دل کی ساری باتیں خود سے خود ہی کہتا ہوگا […]
  • اداس مت رہا کرو
    جلتے دیے کے سامنے جھونکا ہوا کا دیکھ کر اتم کیوں اداس ہوگئے موسم خزاں کا دیکھ کر تم دلوں کے روگ کا موسموں کے سوز کا درد مت سہا کرو اداس مت رہا کرو
  • دیواریں روتی رہتی ہیں۔۔۔۔
    بدلتی رتوں سے گھبرا کر آنسوؤں سے تنگ آکر اک روز میں اپنے سارے خواب اپنے کمرے کی دیواروں سے کہہ ڈالے اور اب میں سوتا رہتا ہوں دیواریں روتی رہتی ہیں